ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سرکاری بِل کے خلاف ریاست میں 40ہزارپرائیویٹ اسپتالوں اور دواخانوں کی یک روزہ ہڑتال

سرکاری بِل کے خلاف ریاست میں 40ہزارپرائیویٹ اسپتالوں اور دواخانوں کی یک روزہ ہڑتال

Fri, 03 Nov 2017 21:07:34    S.O. News Service

بنگلورو3؍نومبر(ایس او نیوز) حکومت کرناٹکا کی طرف سے میڈیکل خدمات فراہم کرنے والے نجی اسپتالوں اور کلینکس پر کرناٹکا پرائیویٹ میڈیکل اسٹابلش منٹ (KPME)ایکٹ 2007لاگو ہوتا ہے۔

اب حکومت کی طرف سے اس میں ترمیمات کرتے ہوئے KPMEبِل 2017اسمبلی کے سرمائی اجلاس میں پیش کیا جانے والاہے جس کا مقصد پرائیویٹ اسپتالوں اور ڈاکٹروں پر مزید شکنجہ کسنا ہے۔اس مجوزہ ترمیمی بِل کے خلاف انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن IMAکی ریاستی شاخ نے 3نومبر کو ریاست گیر ہڑتال کا اعلان کیا جس کے نتیجے میں ریاست کے 40ہزار اسپتالوں اور کلینکس نے یک روزہ بند منایا۔آئی ایم اے کرناٹکا چاپٹر کے صدرڈاکٹر ایچ این رویندرا کے بیان کے مطابق ریاست کے 50ہزار سے زیادہ ڈاکٹرز نے ترمیمی بل کی مخالفت میں ایک دن کے لئے اپنی خدمات کی فراہمی روک دی۔

خیال رہے کہ KPMEایکٹ میں ترمیمات کے ساتھ منظوری کے لئے جو بِل پیش ہونے والا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ پرائیویٹ اسپتالوں میں فراہم کی جانے والی خدمات کے لئے فیس حکومت کی جانب سے مقرر کی جائے گی اور اس سے ہٹ کر کوئی اضافی چارج لینا جرم ہوگا۔پرائیویٹ ڈاکٹروں کی غفلت اور بے پروائی کے معاملات اور ڈاکٹروں کے خلاف شکایات کی جانچ کرنے اور ان پر جرمانہ لگانے کے لئے سرکارکی طرف سے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ اس کے علاوہ ڈاکٹروں کی کسی غلطی پر انہیں 3سال تک کی جیل اور 5لاکھ روپے تک جرمانے کی سزابھی تجویز کی گئی ہے۔

ڈاکٹر رویندرا نے بتایا کہ اگر حکومت ا س طرح کا بِل منظور کرتی ہے تو پھر ڈاکٹرز بھی کوئی رسک لینا نہیں چاہیں گے اور پیچیدہ معاملات میں مریض کے علاج ومعالجے سے ہاتھ اٹھالیں گے۔ اس سے نقصان بالآخر مریضوں کاہی ہوگا ،کیونکہ 80فیصدمریض سرکاری اسپتالوں کے بجائے پرائیویٹ اسپتالوں میں ہی علاج کروانا پسند کرتے ہیں۔ایسے میں کون ڈاکٹر ہوگا جو مریضوں کا علاج کرکے خود اپنے لیے خطرہ مول لینا چاہے گا۔

ڈاکٹر رویندرا نے مزید بتایا کہ ڈاکٹروں کی غلطی اور غفلت کی جانچ کرنے اور سزاکے طور پر ان کی پریکٹس پر روک لگانے کی کارروائی انڈین میڈیکل ایسوی سی ایشن پہلے سے کررہی ہے۔ ایسے میں پھر ایک نئی کمیٹی قائم کرنا ڈاکٹروں کو منظور نہیں ہے۔اس کے علاوہ ڈاکٹر رویندرا نے پوچھا کہ جب پرائیویٹ اسپتالوں اور کلینکس کے لئے الیکٹرک بل، پانی کا بل اور دیگر ٹیکس وغیرہ تجارتی (کمرشیل) ادارے کے طور پر وصول کیے جاتے ہیں اور سرکاری اسپتالوں کی طرح انہیں کوئی سبسیڈی نہیں دی جاتی ہے توپھر حکومت اپنے طور پرپرائیویٹ اسپتالوں اور دواخانوں کے لئے علاج کی فیس کیسے مقرر کرسکتی ہے۔ اگرحکومت کو میڈیکل پریکٹس کا کوئی نیا قانون لانا ہی ہے تو پھر اس کو سرکاری اسپتالوں اور ڈاکٹروں پر بھی لاگو کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے حکومت کے مجوزہ بِل کو سخت ظالمانہ قانون قرار دیتے ہوئے کہا کہ میڈیکل ایسو سی ایشنز کی ایک ریاست گیر میٹنگ 5نومبر کو منعقد ہوگی جس میں اس بل کے خلاف آئندہ کے اقدامات اور لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔


Share: